Thursday, November 26, 2020

انصاف کسے کہتے ہیں؟ اسے ایک چھوٹے بچے سے جانے

 اسلام میں انصاف کے کیا معنی ہیں مروت کے کیا معنی ہے اس کو جاننے کے لیے اس چھوٹے سے بچے کی ویڈیو ضرور دیکھیں اور اس کو شیئر ضرور کریں

न्याय इंसाफ किसको कहते हैं न्याय क्या होता है इसको जानने के लिए इस वीडियो को पूरा देखें।

Lamha-e-Fikria, Episode No 3 न्याय किसको कहते हैं? यह जाने छोटे से बच्चे से

Tuesday, November 28, 2017

تبرّا کے مفہوم کو جاننے کی ضرورت


Image result for ‫عید زہراء مبارک ہو‬‎

سلام علیکم 
عید زہراء مبارک ہو 
تبرّا کے مفہوم کو جاننے کی ضرورت 
تبرّا دشمنان خدا اور اولیائے خدا کے دشمنوں سے دوری اختیار کرنا ہے یہ ایک کلامی اصطلاح اور اعتقادی تعلیمات کے مطابق خاص طور پر اسلامی فرقوں میں سے اہل تشیع کےیھاں ایک خاص دینی رکن ہے۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے ہے کے اسلام میں تبرہ کے  لئے کیا حکم ہے اور اسلام میں اسکی اہمیت کیا ہے ؟ اسلامی نظریات  کے حساب سے اسلام میں  اصول دین  ہیں اور فروع دین  ہیں فروع دین ایک فقہی اور کلامی اصطلاح ہے جو اصول دین کے مقابلے میں اسلام کے عملی احکام کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ مشہور فروع دین دس ہیں : نماز، روزہ، خمس، زکات، حج، جہاد، امر بالمعروف و نہی عن المنکر، تولی اور تبری.اصول دین کا تعلق انسان کے عقیدے اور نظریے سے ہے۔ جبکہ فروع دین انسان کے عمل سے مربوط ہے-
تبرا کے معنی ہے الله اور الله کے رسولﷺ و انکے  ولی کو جو  ناپسندیدہ ہو ایسی چیز سے دوری اختیار کرنا ،یعنی بیزاری ظاہر کرنے  کو تبرّا کھا جاتا ہے – اب بات سمجھنے کی یہ  ہے اور غور فکر کرنے  کییہ  ہے کہ آخر کون کون سے عمل ہماری زندگی میں ایسے  ہیں جو الله اور الله کے  رسولﷺ و انکے ولی کو ناپسندیدہ ہیں جن سے ہمکو دوری اختیار کرنی ہے ، یا  بیزاری ظاہر کرنی کا عہد لینا ہے –
 تبرّا کسی ایک خاص موقع پر یا خاص ایک دن کے لئے تبرّا کا ذکر کافی نہیں ہے بلکی تبرّا کو سمجھنے کے لئے لمحہ لمحہ فکر کی ضرورت ہے – الله  نے قرآن کریم میں  کئی جگہ واضح فرمایا ہے کہ شرک اور بت پرستی اور شرک اور گمراہی کے پیشواؤ اور ان کے معبود تبرّا کے مصادیق ہیں۔ 
اور اس کے علاوہ ہمکو اپنی زندگی کو حکم الله گذارنی ہوگی – تبرّا کے نام پر کسی پر لعنت کرنا نہیں ہوتا ہے بلکہ اپنے نفس  کو کسی بھی طرح کی  برائیوں سے پاک رکھنے کا نام تبرہ  ہے اس لئے اپنے اندر پنپ رہے شیطان ' شہوت انسانی سے – دنیا پرستی سے دوری اختیار کرنا ، بیزاری ظاہر کرنا سب سے بڑا  تبرّا ہے -  
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمکو صرف فروع دین کے آخری  رکن میں زور شور شدّت  کیوں نظر اتی ہے جبکہ باقی رکنوں کے ساتھ اتنی شدت نظر نہیں اتی ہے ؟  کئی فرقہ پرست  لوگ تبرّا کے نام پر فتنہ پیدا کرنے کی کوششیں کرتے ہیں اور اصحاب رسولﷺ پر تبرہ کرتے ہیں  جبکہ اہلسنت کے صحابہ کو گالی دینا انکی  توہین کرنا حرام ہےیہ ایک  فتنہ ہے جو کہ فتنہ ایک گناہ کبیرہ میں سے  ہے - 
اصول دین پر یقین حاصل ہونا ضروری ہے لیکن فروع دین تبلیغ اور بیان‌ کا محتاج ہے اور ان میں حکم عقل کافی نہیں ہے اس بنا پر فروع دین میں تقلید جایز بلکہ اگر خود مجتہد نہ ہو اور احتیاط پر بہی عمل نہ کرسکتا ہو تو تقلید کرنا واجب ہے۔
اسی سلسلہ میں میرا سوال ہے کہ ہم مسلمان آپس  میں سنی ،شیعہ کے نام پر کب تک لڑتے رہینگے ؟  
اہلسنت کے مقدسات کی توہین کرنا حرام ہے اور ظاہر ہے کہ جو کوئی بھی شیعہ کے نام پر اہلسنت کے مقدسات کی توہین کرتا ہے  یا سنی ہو کر شیعہ مقدسات کی توہین کرتا ہے وہ اسلام دشمن طاقتوں کا آلہ کار ہے اصحاب رسولﷺ پر تبرہ کرنے والوں کا اہلبیت (ع) سے کوئی تعلق نہیں۔  
اہلسنت کے مقدسات کی توہین کرنا حرام ہے اسکے لئے شیعہ مجھتہد ین کے  فتوے  مندرجہ ذیل پیش کر رہا ہوں - 
برادران اہل سنت کے مظاہر کی اہانت حرام ہے۔ حضرت آیت اللہ  العظمی امام خامنہ ای
اہل سنت کے مقدسات کو گالی دینا ان تعلیمات کے خلاف ہے جو اہل بیت علیھم السلام نے اپنے شیعوں اور شاگردوں کو دی ہیں ۔ حضرت آیت اللہ العظمی سید سیستانی
دوسروں کے مقدسات کی کسی بھی طرح کی توہین کرنا شرعا جائز نہیں ہے۔ حضرت آیت اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی
 دوسرے مسالک کے ماننے والوں کے ساتھ دشمنی نہیں کرنا چاہیے ،ان کے مقدسات کی   توہین  نہیں کرنا چاہیے،ان کے بزرگوں پر لعنت بھیجنا  اور ان کو گالی دینا جائز نہیں ہے ،اس لیے کہ یہ چیز ان کو اہل بیت اور ان کے معارف سے دور کیے جانے کا سبب بنے گی ۔ حضرت آیت اللہ العظمی وحید خراسانی
صحابہ کو گالی دینا ،شیعوں یا سنیوں کے مقدسات کی توہین کرنا ،دونوں گروہوں کے اعتقادات کی ظالمانہ توہین اور تحقیر کر نا ،حرام ہے اور اختلاف پیدا کرنا اور تفرقے اور جدائی کی آگ روشن کرنا اور امت اسلامی کے اتحاد کو پارہ کرنا گناہ عظیم ہے ۔ حضرت آیت اللہ العظمی جوادی آملی
ہر عمل یا قول کہ جو شیعہ اور سنی مسلمانوں کے مابین اختلاف اور فتنے کا باعث بنے وہ جائز نہیں ہے-  حضرت آیت اللہ العظمی ھاشمی شاہرودی
ان فتوؤں پر نظر کی جائے تو بات صاف اور واضح ہوجاتی ہے کہ اہل تشیعوں کے یہاں اہلسنت کے مقدسات کی توہین کرنا حرام قرار دیا گیا اب اگر کوئی  صحابہ کرام  کو گالی دیتا ہے اور انکی توہینن کرتا ہے اور  شیعہ ہونے کا دعوا کرتا ہے تو وہ جھوٹھا ہے ایسا کرنے والا کبھی شیعہ نہیں ہو سکتا فسادی ضرور ہو سکتا ہے – اس لئے میری سنی بھائیوں اور شیعہ بھائیوں سے درخواست ہے کے اس پر آشوب ماحول میں اتحاد پیدا کرے دشمنوں کے منصوبوں کو کامیاب نہ ہونے دیں - اسلام کا مقصد انسانوں کو انسانیت سیکھانا ہے نفرت نہیں – اس لئے سنی شیعہ نہیں مسلمان بنے اور دوسری قوموں کے لئے مثال بنے – 
ترتیب - ریاض عبّاس عابدی (راس )  
مقیم – مسقط – عمان 


Tuesday, July 4, 2017

آل سعود انہدام جنت البقیع کے ذمہ دار / آل سعود اب اپنے اقتدار کا آخری دن گن رہا ہے

< "> اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ انہدام جنت البقیع پورے عالم اسلام کے منہ پر طمانچہ ہے، جنت البقیع کو تباہ کرنے والے ہی عالم اسلام کو تقسیم کرنیکی سازشوں میں مصروف ہیں اور یہی عناصر ظہور امام مہدی کے بھی دشمن ہیں، اہل بیت، امہات و اصحاب رسول کے مقدس مزارات کی تعمیر نو عالم اسلام کی مشترکہ ذمہ داری ہے، انہدام جنت البقیع جیسی دہشتگردی کے مرتکب حرمین شریفین کو بھی دہشتگردی کا نشانہ بنانا چاہتے ہیں،پاکستان سمیت تمام عالم شعائر اللہ جنت البقیع کی تعمیر نو کے حوالے سے عالمی سطح پر عملی اقدامات کرے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے دستہ امام حسنؑ کے زیر اہتمام مسجد و امام بارگاہ شہدائے کربلا میں آٹھ شوال یوم انہدام جنت البقیع کی مناسبت سے منعقدہ مرکزی مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے کیا، بعد از مجلس جلوس عزا برآمد ہوا جس نے شاہرائے پاکستان پر انہدام جنت البقیع کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ اہل بیت اطہار ، ازواج مطہرات اور اصحاب رسول سمیت بزرگان دین کے مقدس مزارات کا تحفظ مسلمانوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور جو لوگ دین اسلام کا نام استعمال کرکے یہ مکروہ فعل انجام دے رہے ہیں، وہ عناصر اللہ کی رحمت سے دور اور دنیا کی لعنت کے مستحق ہیں، ان کا مقصد ملت مسلمہ کو تقسیم کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہدام جنت البقیع کے ذمہ دار برطانوی پیداوار آل سعود حضرت امام مہدی کے دشمن اور انکے ظہور میں رکاوٹ پیدا کرنا چاہتے ہیں، اسی لئے آل سعود عالم اسلام کو تقسیم کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں، جنہیں شیعہ سنی مسلمان اتحاد بین مسلمین کے ذریعے ناکام بناتے چلے آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اہلبیتؑ، امہات المومنین اور اصحاب رسول سمیت بزرگان دین کے مقدس مزارات کی تعمیر نو تمام عالم اسلام پر فرض ہے، جنت البقیع عالم اسلام کا مشترکہ سرمایہ ہے، عالم اسلام کو جنت البقیع کی تعمیر کیلئے عالمی سطح پر مو ¿ثر اقدامات کرنا ہونگے، کیونکہ مٹھی بھر آل سعود کی جانب سے جنت البقیع کا انہدام پورے عالم اسلام کے منہ پر طمانچہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہدام جنت البقیع کے ذمہ دار آل سعود کا اقتدار اپنے آخری دن گن رہا ہے، جس سے نظریں ہٹانے کیلئے انہدام جنت البقیع جیسی دہشتگردی کے مرتکب آل سعود مدینہ منورہ و مکہ مکرمہ میں حرمین شریفین کو بھی دہشتگردی کا نشانہ بنانے کی ناپاک کوشش کر رہے ہیں، لیکن عالم اسلام کے غیور شیعہ سنی عوام آل سعود کو تاریخ دھرانے نہیں دینگے۔ انہوں نے حکومت پاکستان سمیت تمام عالم اسلام سے مطالبہ کیا کہ شعائر اللہ جنت البقیع کی تعمیر نو کے حوالے سے عالمی سطح پر آواز بلند کرے اور عملی اقدامات اٹھائے۔

جنت البقیع کے مسمار شدہ مزار کی پرانی تصویر کی رونمائی

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ آٹھ سال قبل اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکریٹری جنرل حجۃ السلام و المسلمین محمد حسن اختری نے جنت البقیع کے قبرستان اور چار اماموں کے روضے کی بے مثال تصویر کی رونمائی کی۔
جنت البقیع کی یہ پرانی تصویر جو استنبول یونیورسٹی کی لائبریری نے اسمبلی کو بھیجی تھی کو ایک فریم میں بند کروا کر تہران میں اسمبلی کے دفتر میں اسکی رونمائی کی۔
یہ تصویر ۱۳۰۳ ہجری قمری بمطابق ۱۸۸۶ میلادی کی ہے جسے ترکی کے سلطان عبد الحمید دوم نے اپنے ذاتی آرشیو میں رکھا ہوا تھا اور بعد میں اسے استنبول یونیورسٹی کی لائبریری میں منتقل کر دیا گیا۔
یہ تصویر اس دور کی ہے جب حرمین شریفین عثمانی ترکوں کے زیر تولیت تھا اور اس دور میں جنت البقیع میں پائی جانے والی ائمہ طاہرین کی قبروں پر روضے بنے ہوئے تھے جنہیں بعد میں سعودی وہابیوں نے مسمار کر دیا۔

Monday, January 4, 2016

آیت اللہ نمر باقر النمر کی شہادت پرتعزیت نامه 'آل سعود کو اپنی بربادی انے کے دن گننے شروع کر دینے چاہئے

إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
تعزیت نامه
آیت اللہ شیخ نمر صاحب  کے اھل خاندان کو تعزیت پیش کرتا ہوں اس غم  میں پوری دنیا کے لوگ جو حق پسند ہیں وہ  شیخ نمر صاحب  کے ساتھ ہیں -

شیعہ عالم دین آیت اللہ شیخ نمر الله کی راہ میں شہید کئے گئے ہیں - آل سعود کے ہاتھوں سے ان کو  جھوٹھے الزام لگا کر شہید کیا گیا ہے سعودی عرب کی حکومت کے  اس ظلم نے پوری دنیا کو ہلاکر رکھ دیا ہے – سعودی حکومت نے یہ ظلم صرف شیعہ عالم دین آیت اللہ شیخ نمر کے ساتھ نہیں کیا ہے بلکہ پوری امّت اسلامی  کے ساتھ کیا  ہے –
حق بیانی کرنی کی سزا اگر موت ہے تو الله اور رسول  صلى الله عليه وسلم کے پیروکار موت سے نہیں ڈرتے ہیں -  جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہوا ہے جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک اس نے خدا کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے پیغمبر تمہیں ہم نے ان کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا - آل سعود کی یہ حرکت الله اور رسول کے خلاف ہے جس کی سزا الله ضرور دیگا –
آل سعود کی سعودی حکومت یہ سمجھتی ہے کے ہم اہلبیت صلى الله عليه وسلم کے چاہنے والوں کو اسی طرح شہید کرتے رہینگے اور دنیا خاموش رہیگی پر وہابی آل سعود کی یہ  سوچ بلکل مہمل ہے – تاریخ گواہ ہے جب جب ظالموں نے ظلم کیا ہے الله نے ان پر عذاب  نازل کیا ہے  - الله کے نیک سیرت بندوں کو ستانے والے بہت بہت بڑے- بڑے اے  پر اپنکی اکڑ ' تکبر و غرور ' تانا شاہی کو  الله نے  نیست و نابود کردیا   -

 سعودی عرب کی حکومت کیا یہ سوچتی ہے کہ ہم نے آیت اللہ شیخ نمر کو موت دے دی تو شاید انہوں نے قران مجید کی یہ آیات نہیں پڑھی ہے جسمیں الله ارشاد فرماتا ہے لَا تَحْسَبَنَّ الَّذیْنَ قتلوْافیْ سَبیْل اللّٰہ اَمْوَاتًابَلْ اَحْیَاءٌ عنْدَ رَبھمْ یرْزَقوْن۔
جو اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں، انہیں مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں  اپنے پروردگار کے ہاں رزق حاصل کرتے ہیں-
شیخ نمر کی شہادت پر پوری دنیا کے حق پسند لوگ انکو  تعزیت پیش  کر رہیں ہیں  یہی آیت اللہ شیخ باقر النمر کی کامیابی ہے اورشیطانی سعودی حکومت کی ناکامی ہے - بس آخر میں یہی کہتا ہوں آل سعود کو اپنی  بربادی انے کے دن گننے شروع کر دینے چاہئے – کیوں کہ کے خدا انصاف کرنے والا اور ظالموں پر عذاب کرنے والا ہے –
ریاض عبّاس عابدی
سابق قومی رکن
 بھارتیہ جنتا پارٹی مواصلات سیل – ہندوستان

Friday, September 18, 2015

١٩ ستمبر ١٩٨١ نوگاواں سادات کا کالا دن


ایڈووکیٹ سعید اختر (كللن) کسی تعارف کے محتاج نہیں ہے ان کی گنتی مرادآباد کے بڑے وکیلوں  میں کی جاتی تھی  پر افسوس حاسدوں نے انکو  شہید  کر دیا – پر افسوس کی بات یہ ہے کہ ٣٤ سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی ایڈووکیٹ سعید اختر کی روح آج بھی ہندوستان کی عدالت سے انصاف کی  منتظر ہے - 
١٩ ستمبر 1981 ہفتہ کی علی الصبح  اتر پردیش کے امروہہ کے نوگاواں سادات میں ایک ایسے شخس  کو دن کی روشنی میں  قتل کر دیا گیا تھا  جو لوگوں کو قانوں  کے ذریعے ان کے حق کو دلاتا تھا – اور سماج کو تعلیمی معاشرے  سے جوڑنے کا خواب دیکھتا تھا – بھلے ہی آج ایڈووکیٹ سعید اختر (كللن) اس دنیا میں نہ ہو پر حقیقت تو یہ ہے کہ جو نوگاواں سادات کو تعلیمی معاشرے  سے جوڑنے کا خواب انہوں نے  دیکھا تھا وہ آج کہی نہ کہی ابو محمد اٹر کالج نوگاواں سادات - شہرت اٹر کالج نوگاواں سادات کی شکل میں پورا ہوا دیکھتا ہے -  بھلے ہی اس کا کریڈٹ کوئی  بھی لے پر حقیقت کچھ اور ہی ہے – ایڈووکیٹ سعید اختر (كللن) کے حوصلے اور جذبات اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اپنے دوستوں کے ساتھ ملکر ایک کمیٹی بنائی تھی جس میں  نو جوانوں کو تعلیمی معاشرے  سے جوڑنے کے لئے نوگاواں سادات کی سب سے پہلی   لائبریری  قایم کی تھی -  اور شادی میں جہیز لینے جیسی برائیوں کے خلاف آواز اٹھانے والے بھی وہی شخص  تھے -  
دراصل ایڈووکیٹ سعید اختر (كللن) ہمیشہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والے ایسے فرشتے تھے جو عام لوگوں کے حقوق کے لئے  سیاست دانوں  ،غیر قانونی مافیا کارندوں ، بدمعاشوں سے لوہا لیتے رہتے تھے جس کی وجہ سے انکا  قتل کر دیا گیا تھا . ایڈووکیٹ سعید اختر کو کی بار  قتل کرنے کی کوشش کی گئی تھی  ایک بار انکے گھر پر بھی حملہ کیا گیا تھا جس میں ان کی بیوی کی موت ہو گئی تھی اور ایڈووکیٹ سعید اختر کے پیٹ میں گولی لگی تھی جس کا طویل علاج کے بعد ٹھیک ہوئے تھے- .
١٩ ستمبر 1981 ہفتہ کا دن تھا  جب سعید اختر اپنے دوست کے ساتھ اپنے موکل کے گھر جا رہے تھے تبھی ١٠-١٢   حملہ آوروں نے راستہ  میں بڑی برہمی سے چاقو چھریوں سےقتل کر دیا  تھا- ساتھ ہی انکے دوست افسر عالم کا بھی قتل کیا گیاتھا- افسر عالم کا گناہ یہ تھا کے وہ ایڈووکیٹ سعید اختر (كللن) کو بچانا چاہتے تھے میری معلومات کے مطابق- افسر عالم ایک سماجی کارکن تھے-  
PCS Judicial ایڈووکیٹ سعید اختر (كللن) نے
امتحان پاس کیا تھا اور انکی تقرری منصف (جج) کے عہدے پر  جے پور میں کی گئی تھی – میری معلومات کے مطابق انکو 21 ستمبر کو منصف (جج) عہدے کا چارج  لینا تھا اس لئے 20 ستمبر کو جے پور جا نے والے تھے – پر ظالموں نے اسے پہلے ہی قتل کر دیا – ظالموں اور قاتلوں کو یہ معلوم تھا کہ اگر یہ انسان منصف (جج) کے عہدے پر تقررہوا تو ہماری غیر قانونی دوکانے بند ہو جاےگی اسی لئے ایڈووکیٹ سعید اختر (كللن) کا قتل  کرکے اپنی بہادری سمجھی – جبکے کسی کا قتل کرنا کوئی بہادری کا کام نہی ہے قران مجید میں الله  فرماتا ہے جس کسی نے کسی کا قتل کیا بغر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا ملک میں فساد بر پا کیا ہو تو گویا اسنے سب کو قتل کر دیا اور جس نے اس کو بچایا تو گویا کے اس نے پوری انسانیت کو بچایا – یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کے الله اپنے دین اسلام  میں مظلوموں پر ظلم کرنے والوں کے لئے کتنا  سخت ترین  خلاف ہے – اور الله ایسے قاتلوں کو اپنا عذاب بھی نازل 
کریگا - 
2224.jpg
معلومات کے مطابق اس سانحہ میں سیاست دانوں کی شہ پر   پولیس کو بھی  خرید لیا گیا تھا-  اور قتل کے وقت استمال ہتیار بیرونی ملک سے خریدے گئے تھے – معلوم رہے کے اس معاملے میں عدالت نے قاتلوں کو با عزت بری کر دیا تھا – میری معلومات کے مطابق اس وقت کے حج نے ظالموں سے موٹی رقم لیکر یہ فیصلہ لیا تھا – وہ اور بات ہے کہ پورا قصبہ نوگاواں سادات جانتا ہے کے قاتل کون کون ہیں پر منھ پر بولنے والا کوئی نہیں ہے کیونکہ ظالموں کے ظلم سے سب کو ڈر لگتا ہے – آج چاہے   ایڈووکیٹ سعید اختر (كللن) اور افسر عالم کے قاتل آج بھی کھلے ہاتھ کھلے آسمان گھوم کر اپنے اپر فقر کرتے ہو  – پر یہ لوگ یہ نہی جانتے بھلے ہی دنیا میں سزا ابھی نہ ملی ہو پر اگے تو مل سکتی ہے اور اگر زندگی میں نہ سہی آخرت میں تو ضرور ملیگی – انشاللہ


  

 .

Tuesday, June 2, 2015

کیا ہم امام مہدی علیہ السلام کے منتظر ہیں ؟

ولادت با سعادت امام مہدی علیہ السلام مبارک ہو 
    
انتظار، انتظار انتظار یہ انتظار لفظ ایسا لفظ ہے کہ  اس انتظار الفاظ کے ذریعے مکمل زندگی کٹ جاتی ہے اور امام مہدی علیہ السلام کے آنے کا  انتظار اور  بڑھتا ہی جاتا ہے-
 لوگ کہتے ہیں جب کوئی محبوب اپنے محبوب کا انتظار کرتا ہے تو اس انتظار  کا لطف  الگ ہی ہوتا ہے-
 جی ہاں ہمارا اور امام مہدی علیہ السلام کا رشتہ بھی ایک محبوب جیسا ہی ہے ہم امام علیہ السلام کے محبوب ہیں اور امام مہدی علیہ السلام ہمارے محبوب ہیں لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا امام مہدی علیہ السلام ہم کو اپنا محبوب بنائے گئے؟
 جب کے ہم ان کاموں کو کرتے ہیں جو امام کو پسند نہیں ہیں  جیسے ہم  نماز پابندی سے نہیں پڑھتے، روزہ رکھتے ہیں تو اس میں صرف اپنے کو بھوكا رکھ  کر سمجھتے ہیں کے ہمارا روزہ مکمل ہوگیا، جب ہم حج کرتے ہیں تو اپنے حاجی ہونے کی فضیلت کو نہیں سمجھتے بلکہ حاجی ہونے کا غرور ضرور کر لیتے ہیں ، جب ہم زکات  دیتے ہیں تو  سوچتے ہیں گویا سامنے والے پر اور اللہ پر ہمنے  کتنا بڑا  احسان کردیا ، جب ہم خمس  دیتے ہے تو بغیر کسی کو دکھائے دیتے نہیں ، جب ہم اپنے بھائی سے ملتے ہیں تو محبت کے ساتھ نہیں ملتے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں لگے رہتے ہیں جب کہ  یہ سب باتیں  امام علیه السلام کو بالکل نہ پسند ہیں -
اگر ہم کو صحیح میں امام مہدی علیہ 
السلام سے محبت ہے اور  امام مہدی علیہ السلام کے محبوب بننا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ہم کو اپنے کرداروں کو درست کرنا ہوگا اپنے اعمالوں  کو درست کرنا ہوگا ہر وہ کام چھوڑنا ہوگا جو امام علیه السلام کو پسند نہیں  ہے  اور ہر اس کام کو انجام دینا ہوگا جو اللہ کی رضا کے لئے ہو نہیں تو ہم صرف اپنے کو    امام مہدی علیہ السلام کا  چاہنے والے ہونے کا دعوہ  توکرتے  رہیں گے لیکن وہ صرف ہمارے دل کا بہکاوا  ہوگا-

ہم کو سوچنا ہوگا کے کیا واقعی میں ہم امام علیه السلام کے چاہنے والے اور الله کے ہدایت کے راستہ پر ہیں؟ اور ہم کوئی  ایسا کام تو  نہیں کر رہے ہیں جو اللہ اور  امام علیه السلام کو نہ پسند ہو؟
  اگر ہم ان  باتوں  کو اپنی زندگی میں نہی کرتے  جو الله کو نہ پسند ہیں تو سمجھ لیں کہ  آپ واقع میں  امام مہدی علیہ السلام کو بلانا چاہتے ہیں اور انکے ظہور کے لیے  ہم زمین تیار کر رہیں ہیں –
نہیں تو ہم بھی اس فہرست میں شامل ہو جايگے جن کو امام زمانہ علیہ السلام پسند نہیں کرتے ہمارے اسلامی معاشرے میں اور خاص کر شیعہ عقیده سے  امام مہدی علیہ السلام پردہ غیب میں ہیں اور ایک دن الله کے حکم سے  ظہور کرینگے-  امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے سلسلہ میں دوسرے مذہب میں بھی ملتا ہے کہ جب پوری دنیا ظلم ہی ظلم ہوگا جب امام مہدی علیہ السلام ظہور کرینگے  اور پوری دنیا میں انسانیت کا پرچم لہراے گے اور اس دنیا سے  ظلم کا نام مٹا دینگے-
لیکن سوچنا  یہ ہے کہ امام زمانہ  علیہ السلام کے لئے  ہماری زممداری   کیا  بنتی ہے جی ہاں  امام علیہ السلام کے لئےہماری  پہلی زممداری  تو یہ ہونی چاہئے کے ہم کو امام مہدی علیہ السلام کی زندگی کو اپنے بچوں،نو جوانوں کو بتائے کہ  امام علیہ السلام کی زندگی کیسی تھی جس سے ہم    امام مہدی علیہ السلام کی فضیلت کو جانے گے اور  اسکےبعد  امام علیہ السلام کے آنے کے 
انتظار میں  اور زیادہ تڑپ پیدا  ہو جائے گی-

لیکن  ہمکو امام مہدی علیہ السلام کے ظہور  کی تیاری ایسے کرنی جیسے کہ  جب کسی ملک، شہر یا گاؤں میں کوئی غیر ملکی مہمان  آنے والا ہوتا ہے تو ہم سب سے پہلےاس  ملک، شہر یا گاؤں میں اس کی حفاظت کا انتظام کرتے ہیں صاف صفائی  کرائی جاتی ہے جگہ جگہ خوبصورت  سے خوبصورت پھولوں  کے گلدستے  لگائے جاتے ہیں  تاکہ  آنے والا خوش ہو اور کوئی ایسا کام نہ کیا جائے جو مہمان کو پسند نہ ہو اسی طرح  امام مہدی علیہ السلام ہمارےمہمان  ہیں-
  اور امام علیہ السلام کی آمد کے لئے ہم کو اپنے گھروں  شہروں  کو صاف کرنے کی ضرورت ہے یعنی  اگر ہم اصل میں  امام مہدی علیہ السلام سے محبت کرتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ امام کا ظہور ہو جائے  تو ہمکو توکل یعنی الله پر اعتماد رکھنا ہوگا – نفس کی نگرانی کرتے رہنا ہوگا - اپنے اندر چھپے شیطان کو باہر نکال کر  پھیکنا  ہوگا ہم کو اپنے دلوں میں دوڑتے ہوے  کالے حسد، جلن بغض ، نفرت کو نکال کر پھیکنا ہوگا- حسن اخلاق یعنی ایک دوسرے کے ساتھ اچّھے برتاؤ سے ملنا ہوگا- تلخی حالات پر صبر کرنا ہوگا – حرص اور لالچ سے پرہیز کرنا ہوگا – تکبّر اور غرور سے اپنے کو محفوظ رکھنا ہوگا – تب  ہی ہم کہہ سکتے ہیں کہ  ہم  امام مہدی علیہ السلام کے پیروکار ہیں –

ریاض عبّاس عابدی

مقیم مسقط – سلطنت عمان 

Sunday, May 24, 2015

اسلام دہست گردی کا دشمن

بڑے افسوس کی بات ہے کے جہاں پر اسلام مکمّل ہوا اسی زمین پر  اسلام کو بدنام اور ختم کرنے کی سازش رچی جا رہی ہیں – سعودی عرب کے حکمران یہودیوں کے ساتھ ملکر یمن کے مسلمانوں  پر اپنے ظلم کی  حدیں پار کر نے سے بعض نہیں آرہا ہے- 
اسکے بعد بھی جب  سعودی عرب کی حکومت کا  یمن میں مسلمانوں پر ظلم کرکے  دل نہیں بھرا تو اس نے دہشت گرد تنظیم ای .اس سے ملکر  سعودی  میں ہی ایک شیعہ مسجد میں بیم دھماکہ کرایا –
 جس میں سیکڑوں لوگوں کی جان گئی اور سیکڑوں زخمی ہیں -


سوال سنی یا شیعہ کا نہیں یہاں سوال انسانیت کا ہے میرا بار بار یہی کہنا ہے کے آج جو کچھ اسلام کے نام پر ہو رہا ہے وہ لوگ اسلام کے ماننے والے نہیں ہو سکتے
 جس طرح سے یہ لوگ اسلام کے نام کا سہارا لے کر اسلام کو بدنام کر رہے ہیں اس سے تو صاف صاف یہی معلوم ہوتا ہے کے اگر یہ صحیح میں اسلام کو مانتے تو ایسا کبھی نہیں کرتے.

ایسے لوگوں کے لئے قرآن میں بیان ہوا ہے - 
یہ لوگ جب مسلمانوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم  اللہ پر یقین رکھتے ہیں اور جب اپنے گمراہ لوگوں میں جاتے ہیں تو ان سے کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں اور ہم تو ان کے ساتھ مذاق کرتے ہیں! سوره : 2 آیت نمبر 41

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین پر دہشت گردی / فساد نہ کرو تو کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں! سوره : 2 آیت نمبر 11

مقدس قرآن کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کی یہی وہ لوگ ہے جو صرف اسلام کو کھلونا سمجھ کر مذاق اڑاتے ہے اسلام دہشت گردی اور لوگوں پر ظلم کرنے کی سمت نہیں دیتا ہے جبھي تو مقدس قرآن میں الہی کہتا ہے جو مندرجہ ذیل تحریری ہے

الله ارشاد فرماتا ہے کہ بھلائی اور برائی برابر نہیں ہو سکتی – اس لئے سخت کلامی کا جواب  نرمی سے دو تم دیکھو گے کہ جو تمہارا دشمن تھا وہ بھی دوست بن جاےگا – سوره ٤١ آیت نمبر ٣٤

پر یہ ہدایت انلوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو برداشت کرنے والے ہوتے ہیں – اور صبر کرنے کی طاقت نصیب والوں کو ہی نصیب ہوتی ہے – سوره ٤١ آیت نمبر ٣٥

مقدس قرآن کی ان 2 آیات سے ہر انسان کو سیکھ لینے کی ضرورت ہے الہی نے تمام انسانوں کو محبت اور اخلاقیات کی کاشت کرنے کا تبلیغ دیا ہے لیکن افسوس کی کچھ کم دج لوگ فتنہ فساد، دہشت گردی اور زہریلی زبان کا استعمال کرنے میں مصروف ہیں جب کی الہی کو یہ فعل بالکل بھی پسند نہیں ہے خدا ایسے لوگوں پر اپنا عذاب ضرور ہی ظاہر کرے گا! امین

ریاض عبّاس عابدی      
مقیم – مسقط ' سلطنت عمان 

سارے جہاں سے اچّھا ہندوستان ہمارا

ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں ہر کمیونٹی مذہب ذات جماعت  کے لوگ پیار محبت سے رہتے ہیں بھارت کا آئین ہر مذہب - فرقہ کے لوگوں کے لئے ایک ہے نہ کوئی ہندو ہے اور نہ کوئی مسلم نہ کوئی کالا ہے اور نہ کوئی گورا نہ کوئی چھوٹا ہے اور نہ کوئی بڑا سب بھائی بھائی ہے ہمارے ملک کے اعلی محافظ وزیر اعظم نریندر مودی جی کا صاف صاف الفاظ میں کہنا ہے کی میرے لئے کوئی مذہب خاص نہیں ہے میرے لئے ہندوستان پہلے  ہے سب کا ساتھ سبکی  ترقی ہی میرا قرارداد ہے-
اب یہاں دیکھنے والی بات یہ ہے کے کم عسکریت پسند لوگ اگر ملک میں غیر آئینی زبان کا  استعمال کریں بھی تو اس سے کسی کو کوئی اثر پڑنے والا نہیں ہے، وہ اس لئے کے جب بھارت کا اعلی محافظ وزیر اعظم کسی بھی ایسے بیان کو حمایت نہی کرتا ہے  اور  ہندوستان کو ایک بنانے کی یقین دہانی دے چکا ہے تو پھر ہم  کم عسکریت پسند لوگوں  بھلے ہی وہ کسی بھی مذہب، جاتی، پارٹی کے ہوں انکے  بیانات کی قیمت صفر ہی ہو جاتا ہے-
ایک مسلمان ہونے کے ناتے ہمارا فرض اور زیادہ ہو جاتا ہے جیسا کے قران پاک میں ارشاد ہوا ہے
وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۚ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ
الله ارشاد فرماتا ہے کہ بھلائی اور برائی برابر نہیں ہو سکتی – اس لئے سخت کلامی کا جواب  نرمی سے دو تم دیکھو گے کہ جو تمہارا دشمن تھا وہ بھی دوست بن جاےگا –
اس آیت سے یہ سیکھنے کی ضرورت ہے بھلے ہی لوگ ہم کو کچھ بھی کہے ہم پر کو اثر نہی بونا چاہے کونکہ حق ہمیشہ سب کہ سامنے ہوتا ہے اور لوگوں کے سامنے ہی رہتا ہے اسی لئے ہم کو گندے ذہن کے لوگوں پر پانی ڈال کر اس آگ کو بجھا دینا چاہے جس آگ کو لگا نا چاہتے ہیں- ہم کو صبر سے نرمی سی جواب دینے کی ضرورت ہے میں یہ نہی کہ رہا ہوں کے دب جاؤ نہی میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے آپ کو اپنے کردار سے پہچنواں – اسلام دکھاوٹی مذہب نہی ہے اسلام عمل کے ذریہ اپنے کردار کو پیش کرنے کا نام ہے اسی لئے ہمارا فرض اور زیادہ بن جاتا ہے جیسے کہ قران پاک میں ارشاد ہوا ہے الله  صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے – تو پھر ہم کسی سے کیوں ڈرے – کیوں دبے -  مگر ہمکو لوگوں کی باتوں کو نظر انداز کرکے انکو پست کرنا ہی ہماری جیت ہوگی -  
یہاں یہ سمجھنا انتہائی ضروری جاتا ہے کے اگر میڈیا ان جیسے لوگوں کے بیانات کو عوام میں پیش نہ کریں تو اس سے کم عسکریت پسند کے لوگوں کے حوصلے  پست ہو جائے گے اور ہندوستان میں رہنے والے ہر ہندوستانی کی جیت ہوگی میں میڈیا پر الزام نہیں لگا رہا ہوں پر میڈیا کو اپنی TRP کو ​​نظر انداز کرکے ایسی خبروں پر روک لگانا ہی پڑے گا
میڈیا کا کام لوگوں کے درمیان فاصلے کم کرنا اور ملک کی حکومت کی سرگرمیوں کو عوام کے سامنے پیش کرنا ہے نہ کے بھدے، زہریلے بیانات پر بحث کرنے سے میڈیا کو منفی خبروں پر خوب TRP ملتی ہے اسی لئے منفی خبروں کی تشہیر بازی کرتے ہیں  پر مثبت خبروں کو نظر انداز کر دیتے ہیں
اسی لئے میرا تو کہنا یہ ہے کے گندی سوچ  کے لوگوں کے بیانات پر زور نہ دے بلکہ جو زیادہ تر لوگ پیار  محبت باٹنے، بھارت کو ایک بنانے میں اپنا تعاون دے رہیں ہیں ان پر اپنی توجہ لگائے اور ہندوستان  کو مضبوط بنانے میں اپنی حمایت دیں- اور خاص کر تمام مسلمانوں سے گزارش ہے کے اپنے بچوں کو دینی اور دنیا وی تعلم ضرور دے – مسلمانوں کو ہندوستان اور اپنے کو مظبوط بنانے کے لئے کرورباری میدان اور تعلیمی میدان میں اپنے خادموں کو مظبوط 
کرنا ہوگا جبھی ہم پر جو الزام و بدنام کیا جاتا ہے وہ ختم ہونگے –


ریاض عبّاس عابدی      
مقیم – مسقط ' سلطنت عمان

انصاف کسے کہتے ہیں؟ اسے ایک چھوٹے بچے سے جانے

 اسلام میں انصاف کے کیا معنی ہیں مروت کے کیا معنی ہے اس کو جاننے کے لیے اس چھوٹے سے بچے کی ویڈیو ضرور دیکھیں اور اس کو شیئر ضرور کریں न्याय ...